5 اگست 2026 - 16:19
امریکی تجزیہ کاروں کا مؤقف: کیا ایران سے محاذ آرائی امریکی بالادستی کے زوال کی علامت ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دو معروف امریکی ماہرین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ محاذ آرائی واشنگٹن کی طاقت کے اظہار سے زیادہ عالمی نظام میں اس کی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے اور امریکا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی ماہرِ معاشیات رچرڈ وولف نے موجودہ امریکی صورتحال کا موازنہ برطانوی سلطنت کے زوال کے دور سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے معاشی اثر و رسوخ میں کمی کے دوران بعض اوقات اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

ان کے مطابق امریکا کا غیر معمولی عوامی قرض، بھاری فوجی اخراجات اور مسلسل قرض لینے پر انحصار ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ خلیج فارس میں کسی بھی بڑے بحران یا توانائی کی منڈی میں خلل کے معاشی اور سماجی اثرات امریکا کے لیے نہایت سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

رچرڈ وولف کا کہنا ہے کہ ایشیائی معیشتوں کی تیز رفتار ترقی اور برکس گروپ کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث عالمی معیشت اب سرد جنگ کے بعد کی یک قطبی ساخت پر قائم نہیں رہی۔ ان کے بقول افریقہ اور لاطینی امریکا سمیت کئی ممالک کے پاس سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے امریکا اور یورپ کے علاوہ بھی متبادل موجود ہیں، جبکہ عالمی اقتصادی مرکزِ ثقل بتدریج ایشیا کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی سیاسیات کے پروفیسر جان مرشائمر نے ایران کے خلاف امریکا اور صہیونی حکومت کی ممکنہ فوجی کارروائی کو ایک تزویراتی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی حملوں کے ذریعے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی سوچ خطے کی زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ان کے مطابق اس نوعیت کی کشیدگی امریکا کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا سکتی ہے، جس کے منفی اثرات واشنگٹن کی علاقائی اور عالمی حیثیت پر مزید نمایاں ہوں گے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان دونوں ماہرین کی آراء پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں، تاہم فوجی طاقت اور اقتصادی صلاحیت کے باہمی تعلق پر بحث اب سیاسی اور علمی حلقوں میں پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ مسلسل کشیدگی عالمی نظام کے یک قطبی ڈھانچے سے کثیر قطبی نظام کی جانب منتقلی کی ایک علامت بھی بن سکتی ہے، جہاں معیشت، ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیتیں طاقت کے تعین میں پہلے سے زیادہ اہم کردار ادا کریں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha